عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سازش کا آخری موڑ Sazish Ka Aakhri Mor

بعض موڑ پر بریک نہیں، مرضی فیل ہوتی ہے۔  

مرکزی خیال:
سب سے بڑا جرم وہ ہے جو تمہیں لگے تم نے خود کیا ہے۔
قابو کرنے والا خود قیدی بن جاتا ہے۔


شام کے چار بجے تھے۔ پہاڑی سڑک۔ دھند نہیں چھٹی۔ ڈاکٹر عابد کی ہیڈلائٹیں کھائی سے ٹکرائیں۔ بریک کا پیڈل ڈوب گیا۔ بے روح تھا۔
"کیا...؟"  
گاڑی موڑ سے نیچے گری۔ چٹانوں کی آواز۔ پھر خاموشی۔
یہ تیسرا حادثہ تھا۔ اسی موڑ پر۔
انسپکٹر فیضان نے تین رپورٹس رکھیں۔ حبیب الرحمان۔ صدف۔ ڈاکٹر عابد۔ مختلف پیشے۔ مختلف شہر۔ کوئی تعلق نہیں۔
ایک چیز مشترک تھی۔ تینوں کے بریک اسی موڑ پر ناکام ہوئے تھے۔
معائنہ کیا۔ نشان نہیں تھا۔ چکنائی نہیں تھی۔ میکانیکی وجہ نہیں تھی۔ رپورٹ: "غیر واضح وجوہات۔"
ملنا شروع کیا۔
_عامر_  
پرسکون تھا۔ "والد کی عمر تھی۔ بریک پرانا تھا۔ تعجب نہیں۔"  
آنکھیں نم تھیں۔ رونے جیسی نہیں۔ بوجھ اترا تھا۔  
شیلف پر سرخ کار تھی۔ کھلونا۔  
"بچپن کی یاد۔ والد نے دی تھی۔"
_سلیم_  
بدتمیز تھا۔ "صدف بے وقوف تھی۔ گاڑی نہیں آتی تھی۔ بس۔"  
پچھلے کمرے سے رونا آ رہا تھا۔  
بہن کے ہاتھ میں وہی سرخ کار تھی۔  
"صدف نے دی۔ موت سے ایک روز پہلے۔ کہا، تمھارے پاس رہے گی۔"
_ثناء_  
چہرہ پھولا ہوا تھا۔ بیٹا عثمان ساتھ تھا۔ دوسرے ہاتھ میں وہی سرخ کار تھی۔
تین گھر۔ تین کھلونے۔ ایک رنگ۔
چھ مہینے بعد ایک نمبر ملا۔ تینوں کے ریکارڈ میں۔ حادثے سے تین دن پہلے کال آئی تھی۔ دس منٹ بات ہوئی۔ پھر موت۔
نمبر ٹریس کیا۔ پبلک بوتھ۔ کیمرے میں ہڈی نما۔ لمبا کوٹ۔ چہرہ دھندلا۔  
ہاتھ میں انگوٹھی چمکی۔ وہی جو عامر کے ہاتھ میں دیکھی تھی۔
بنا اطلاع کے ملا۔  
دفتر میں وہ کار تھی۔ ساتھ تصویر تھی۔ عامر اور ایک شخص۔  
"ڈاکٹر فاروق۔ استاد۔"  
"کون؟"  
"کوئی نہیں۔ پرانا استاد۔ مردہ۔"  
"مردہ؟"  
"تین ماہ پہلے۔ خودکشی۔"
ریسرچ ہوئی۔ ماہر نفسیات۔ مہنگا۔ پراسرار۔ مریض: حبیب الرحمان۔ صدف۔ ڈاکٹر عابد۔  
کتاب لکھ رہا تھا۔ "نفسیاتی جوڑ توڑ۔" تھیسس: "الفاظ اور علامات سے خودکشی کرواؤ۔ وہ اپنی مرضی سمجھے گا۔"
ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔
کلینک سنسان تھا۔ دیوار پر وہی تصویر۔ پینٹنگز کے درمیان۔ دیوار پر لکھا تھا:  
"آخری مریض — ڈاکٹر فاروق خود۔"
رپورٹس ساتھ رکھیں۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔  
فاروق قاتل تھا تو خود کیوں مرا؟  
عامر ساتھی تھا تو پرسکون کیوں تھا؟  
بوتھ والا کون تھا؟
بینک اسٹیٹمنٹ دیکھے۔ دو سال میں تین رقمیں آئیں۔ اکاؤنٹ ایک کمپنی کا تھا۔ "انسانی رویے پر کنٹرول۔"  
ڈائریکٹر کا نام: ڈاکٹر عابد۔
ڈاکٹر عابد مر چکا تھا۔ تیسرے حادثے میں۔  
یا نہیں مرا تھا؟  
یا موت کھیل تھی؟
کھڑکی سے دیکھا۔ سڑک پر سرخ کار تھی۔ اسی ماڈل کی۔ اسی رنگ کی۔  
کوئی بیٹھا تھا۔ ہاتھ ہلایا۔ انگوٹھی چمکی۔  
فون ملایا۔ جواب نہیں۔  
پھر دیکھا۔ کار خالی تھی۔  
سیٹ پر چیز تھی۔  
سرخ کار۔ کھلونا۔
---------------


مشکل الفاظ کے معنی
نفسیاتی جوڑ توڑ: دماغ سے ہیر پھیر  
تھیسس: تحقیقی مقالہ  
مورت: پتھر کا مجسمہ  
پراسرار: بھید بھرا

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: